|
کتاب "الکافی"کے باب قبلہ کی معمائ حدیث / مائکل کوک |
|
|
|
خلاصۂ مقالات
|
شیخ کلینی نے "الکافی" کی کتاب الصلاۃ کے آخر میں باب نوادر میں اس حدیث کو نقل کیا ھے ۔
علی بن محمد رفعہ قال:قیل لابی عبد اللہ علیہ السلام :لم صار الرجل ینحرف فی الصلاۃ الی الیسار؟ فقال:لانّ للکعبۃ ستۃ حدود اربعۃ منھا عن یسارک و اثنتان منھا علی یمینک، فمن اجل ذالک وقع التحریف الی الیسار؛
حدیث کے بیان کی روش مبھم ھےلیکن اسے، اسی کے مقابل دیگر احادیث کے ھمراہ جو کہ دوسری حدیثی کتابوں اور حدیثی مجموعوں میں پائ جاتی ھیں بھتر طریقے سے درک کیا جا سکتا ھے،لیکن پھر بھی ،بحار الانوار کے مولف علامہ مجلسی اس بات کے قائل ھیں کہ ان دونوں احادیث کی سندیں بھت ھی ضعیف ھیں ۔(الروایتان ضعیفتا الاسناد جداً)یہ دونوں احادیث واضح طور پر ابتدائ اوراولین فقہ امامیہ میں موجود دو تعلیمات سے مربوط ھیں ۔ ایک یہ کہ پورا حرم مکہ باھر والوں کے لئے قبلہ قرار پائے گا ۔ دوسرے یہ کہ عراق کے لوگ نماز کے وقت تھوڑا سا بائیں طرف مڑ کر کھڑے ھوں ۔ (اس عمل کو تیاسر کے نام سے جانا جاتا ھے)۔ اگرچہ یہ عمل تیاسر اب متروک ھو چکا ھے ۔ یہ مسئلہ صدیوں سے علماء و فقھاء کے درمیان بحث انگیز رھا ھے ۔ (ایران میں) صفویہ حکومت کے دوران ، یہ بحث معینہ طور پر کافی جالب و جاذب رھی ھے ۔ پھلے یہ اظھار کیا گیا کہ اس حدیث میں بیان شدہ مطلب بحث انگیزی کی بھترین حالت میں ھے ،اور بعد میں "تیاسر"کی ایک نئی تفسیر و تبیین کی پیش کش کی گئی،اس جدید تفسیر وتبیین کا اھم ترین پھلو یہ تھا کہ یہ باستان شناسی کے قرائن و شواھد پر استوار تھی۔
|