|
کتاب الکافی شیعوں کی معروف و معتبر ترین حدیثی کتاب اور علامہ ثقۃ الاسلام کلینی کی جاودان تالیف ہے یہ کتاب تین جداگانہ حصوں پر مشتمل ہے:
۱ ۔ اصول ۲ ۔ فروع ۳ ۔ روضہ
جلیل القدر مؤلف نے کتاب کے پھلے حصہ میں آٹھ عناوین (فصلوں) کے تحت شیعوں کے اصول و اعتقادات کی تشریح اوران کے اعتقادی مسایل سے مربوط مطالب کا تذکرہ کیا ہے۔
مؤلف نے ہر عنوان کو مختلف ابواب میں تقسیم کیا ہے اور ہر باب میں متعدد روایات نقل کی ہیں ان میں سے بعض عناوین دو سو سے زیادہ ابواب پر مشتمل ہیں البتہ ہر باب میں ذکر شدہ روایات کی تعداد متفاوت ہے کبھی تو ایک باب میں صرف ایک ھی روایت ھے جب کہ بعض ابواب میں دسیوں روایات ذکر ہوئی ہیں ۔
کتاب کے اصلی عناوین اور خصوصیات
1۔ عنوان العقل و الجھل
اس عنوان کے تحت صرف ایک باب ہے جو۳۴روایات پر مشتمل ہے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی ھشام بن حکم کی نام سفارشیں بھی اسی باب میں آئی ہیں ۔
2۔ عنوان فضل العلم
اس میں بہت زیادہ ابواب ہیں جن کے بعض مباحث اس طرح ہیں:
" حصول علم کا واجب ہونا "،" علم کے ذریعہ روٹی توڑنے والےلوگ "،" علم کی صفت ، علم اور علماء کی فضیلت "،" کتابت اور اس کی فضیلت "،" عالم کی صفت "،" تقلید "،" عالم کا حق "،" بدعت ، رائے اور قیاس "،" بغیر علم کے کلام کی ممانعت "،" تمام انسانوں کو قرآن اور سنت کی ضرورت " ۔
3 ۔ عنوان التوحید
اس میں بھی درج ذیل موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہے :
" کائنات کا حدوث اور اس کا خالق "،" معرفت خدا کا معمولی درجہ "،" اس کی ذات کے بارے میں گفتگو سے ممانعت "،" نظریہ رویت خدا کا بطلان "،" خدا کے ذاتی صفات "،" ارادہ اور اس کے دیگر صفات افعالی "،" اسمائے الھی کے معانی "،" مشیئت اور ارادہ "،" بد بختی اور خوش بختی "،" جبر و قدر اور امر بین الامرین "
4 ۔ عنوان الحجۃ
کافی کے حصہ ٔ اصول کے عنوان " ایمان اور کفر" کے بعد سب سے وسیع و عریض عنوان یہی ہے اس میں بہت زیادہ روایات ایک سو تیس سے زیادہ ابواب میں ذکر ہوئی ہیں کہ ھم ان کی سرخیوں کو یہاں پر ذکر کر رہے ہیں ۔
۱ . حجت خدا کی ضرورت
۲ . انبیاء و مرسلین اور ائمہ کے طبقات
۳ . رسول ، نبی اور محدث میں فرق
۴ . معرفت امام اور اس کی اطاعت کا لزوم
۵ . ائمہ کے صفات (صاحبان امر ، خزان علم ، انوار الٰھی ، ارکان زمین وغیرہ)
۶ . ائمہ کے سامنے اعمال کا پیش ہونا
۷ . ائمہ کا وارث علوم انبیاء ہونا
۸ . ائمہ کے پاس چیزیں ( قرآن کا مکمل علم ، کتب انبیاء ، صحیفۂ فاطمہ ، جفر و جامعہ وغیرہ)
۹ . علم ائمہ اور اس میں اضافے کی مختلف جھتیں
10 . ائمہ اثناعشر میں ہر ایک پردلالت کرنے والے نصوص
11 . تاریخ ائمہ کے چنندہ اوراق
5 ۔ عنوان الایمان و الکفر
الکافی کے حصۂ اصول کا سب سے وسیع و گستردہ عنوان یہی ہے جو دو سو سے زیادہ عناوین پر مشتمل ہے ۔
اس عنوان کے اصلی مباحث اس طرح ہیں :
" خلقت مومن و کافر"،" اسلام و ایمان کا معنی "،" مومن کے صفات اور ایمان کے حقائق "،" اصول و فروع کفر"،" گناہ اور اس کے آثار اور اقسام "،" کفر کے اقسام " ۔
6 ۔ عنوان الدعاء
یہ عنوان دو حصوں میں ہے:
پہلا حصہ: دعا کی فضیلت اور آداب کے بیان میں ھے اس حصہ میں پہلے" آثار دعا "،" دعا کے وسیلہ سے قضا و قدر الٰھی کی تبدیلی "،" تمام بیماریوں کی شفا " اور اس کا استحباب بیان کیا گیا ہے پھر اس کے بعد آداب دعا جیسے " دعا میں سبقت "،" قبلہ رخ بیٹھنا اور دعا کے وقت یاد خدا میں رھنا "،" پنھانی دعا "،" دعا کے مناسب اوقات "دعا میں اجتماعی شرکت " کا بیان ہے ۔
دوسرا حصہ: اس حصہ میں بعض دعائیں اور چھوٹے چھوٹے اذکار یا بعض خاص حالات کی دعائیں جمع کی گئی ہیں جیسے " خواب سے بیدار ہونے کے وقت کی دعا " ، " گھر سے باھر نکلتے وقت کی دعا " ، " نماز کی تعقیبات " ، " بیماریوں کے وقت کی دعا " یا " قرائت قرآن کرتے وقت کی دعا " وغیرہ
7 ۔ عنوان فضل القرآن
اس میں چودہ باب ہیں جیسے حاملین قرآن کی فضیلت ، قرآت قرآن ، ترتیل و حفظ قرآن وغیرہ کی فضیلت بیان ہوئی ہے اسی طرح ہر روز کس مقدار میں قرآن کی تلاوت کرنی چاہئے وغیرہ کا بیان موجود ہے ۔
8 ۔ عنوان المعیشۃ
کافی کے حصۂ اصول کا آخری عنوان یہی ہے جس میں درج ذیل مضامین ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں:
" ہم نشینی کا لزوم "،" اچھی معاشرت "،" اچھے اور برے ہمنشین "،" آداب و وظایف معاشرت "،" سماجی تعلقات "،" ایک دوسرے کو سلام کرنا "،" بڑوں کا احترام "،" کریموں کا احترام "،" بزم کی باتوں کو امانت سمجھنا "،" پڑوسی کا حق "،" میاں بیوی کا حق "،" نامہ نگاری" وغیرہ
کتاب کافی کا دوسرا حصہ " فروع الکافی" نام رکھتا ہے جس میں فقھی مسایل سے متعلق روایات ہیں۔
فروع الکافی کے عناوین درج ذیل ہیں:
۱ . کتاب الطہارۃ
۲ . کتاب الحیض
۳ . کتاب الجنائز
۴ . کتاب الصلاۃ
۵ . کتاب الزکاۃ و الصدقۃ
۶ . کتاب الصیام
۷ . کتاب الحج
۸ . کتاب الجہاد
۹ . کتاب المعیشۃ
۱۰ . کتاب النکاح
۱۱ . کتاب العقیقۃ
۱۳ . کتاب الطلاق
۱۴ . کتاب العتق والتدبیر والمکاتبۃ
۱۵ . کتاب الصید
۱۶ . کتاب الذبائح
۱۷ . کتاب الاطعمۃ
۱۸ . کتاب الاشربۃ
۱۹ . کتاب الزی والتجمل
۲۰ . کتاب الدواجن
۲۱ . کتاب الوصایا
۲۲ . کتاب المواریث
۲۳ . کتاب الحدود
۲۴ . کتاب الدیات
۲۵ . کتاب الشھادات
۲۶ . کتاب القضاء والاحکام
۲۷ . کتاب الایمان والنذور والکفارات
یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ فروع کافی کے بعض عناوین فقھی کتابوں میں مستقل طور پر لائےجاتے ہیں جبکہ اجارہ ، بیع ، رھن ، عاریہ ، ودیعہ وغیرہ کافی کے عنوان المعیشۃ میں ، اور امر بالمعروف عنوان الجھاد میں ، نیز زیارات عنوان الحج میں ذکر ہوئے ہیں ۔
فروع کافی ، کتاب کافی کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
الکافی کا تیسرا حصہ " روضۃ الکافی " کے نام سے معروف ہے جس میں مختلف موضوعات سے متعلق روایات بغیر کسی خاص نظم و ترتیب کے ذکر کی گئی ہیں۔
نمونہ کے طور پر ذیل کے عناوین ملاحظہ ہوں:
۱ . بعض آیات قرآن کی تفسیر و تاویل
۲ . ائمہ معصومین کے وصایا و مواعظ
۳ . خواب اور اس کی قسمیں
۴ . بیماریاں اور اس کا علاج
۵ . تخلیق کائنات کی کیفیت اور بعض موجودات
۶ . بعض بزرگ پیغمبروں کی تاریخ
۷ . شیعوں کے فضائل و وظائف
۸ . صدر اسلام کی تاریخ اور خلافت امیر المومنین سے متعلق بیانات
۹ . حضرت مھدی اور ان کے اصحاب کے صفات اور زمانۂ ظھور کے حالات
10 . بعض اصحاب و اشخاص جیسے ابوذر ، سلمان ، جعفر طیار، زید بن علی وغیرہ کی تاریخ زندگی ۔
روایات کی تعداد
روایات کافی کی تعداد بڑی مختلف بتائی گئی ہے علامہ شیخ یوسف بحرانی نے کتاب لؤلؤۃ البحرین میں ۱۶۱۹۹ حدیث ، ڈاکٹر حسین علی محفوظ نے مقدمۂ کافی میں ۱۵۱۷۶حدیث ، علامۂ مجلسی نے ۱۶۱۲۱حدیث اور ہمارے بعض ہم عصر بزرگوں جیسے عبد الرسول الغفار نے ۱۵۵۰۳حدیث شمار کی ہیں۔ ( الکلینی و الکافی ص۴۰۲)
البتہ یہ اختلاف ، روایات کے شمار کرنے کی نوعیت سے تعلق رکھتا ہے اس طرح سے کہ بعض نے جو روایات دو سند سے ذکر ہوئی ہیں انھیں دو روایت اور بعض نے ایک ھی مانا ہے اسی طرح بعض نے "مرسل" روایات کو جو" وفی روایۃ اخریٰ " جملہ کے ساتھ ذکر ہوئی ہیں انھیں ایک الگ حدیث سمجھا ہے جب کہ بعض نے انھیں علاحدہ حدیث نہیں سمجھا ہے البتہ بعض جگھوں پر روایات کی تعداد کا اختلاف نسخوں میں اختلاف کی وجہ سے ہے۔ (الکلینی والکافی ص۳۹۹)
اھمیت کافی
اس کتاب کی اھمیت کا اندازہ لگانے کے لئے ہم پھلے اس میدان کے شہسواروں اور حدیث کے بزرگوں کے کلمات کا تذکرہ کریں گے اس کے بعد اس کتاب کے بعض خصوصیات کو بیان کریں گے ۔
شیخ مفید : جناب کلینی کے ہم عصر شمار ہوتے ہیں کافی کے بارے میں لکھتے ہیں: کتاب کافی شیعوں کی برترین اور پر فائدہ ترین کتاب ہے۔ (تصحیح الاعتقاد ص۲۰۲)
شھید اول : شھید محمد بن مکی ،ابن خازن کو لکھے گئے اپنے اجازہ میں شیعوں کی حدیثی کتابوں کو شمار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: کتاب کافی کے مانند شیعوں میں حدیث کی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی ہے (بحار الانوارج ۱۰۷ ص۱۹۰)
شھید ثانی : شیخ ابراہیم میسی کے نام اپنے اجازہ میں کتاب کافی کو بقیہ تین کتابوں الفقیہ ، التھذیب ، الاستبصار کے ہمراہ اسلام و ایمان کا ستون شمار کرتے ہیں ۔
مجلسی اول : کا بھی دعویٰ ھے کہ مسلمانوں میں کتاب کافی کے مانند کوئی کتاب نہیں لکھی گئی ہے ۔ (بحار الانوارج۱۱۰ ص ۷۰)
مجلسی ثانی : اپنی کتاب مرآۃ العقول یعنی کتاب کافی کی مفصل شرح میں لکھتے ہیں : کتاب کافی تمام کتب اصول و جوامع سے جامع تر اور مضبوط کتاب ھے اور فرقۂ ناجیہ شیعہ امامیہ کی بزرگترین و بھترین کتاب ہے۔( مرآۃ العقول ج ۱ ص ۳)
علامۂ مامقانی : کا کہنا ھے کہ کافی کے مانند اسلام میں کوئی کتاب نہیں لکھی گئی ہے کہا جاتا ہے کہ یہ کتاب امام زمان علیہ السلام کے سامنے پیش کی گئی امام نے اسے پسند کیا اور فرمایا : یہ کتاب ھمارے شیعوں کے لئے کافی ہے (تنقیح المقال س۳ ص ۲۰۲)
آقابزرگ تھرانی : عظیم ترین ماھرکتابیات آقا بزرگ تھرانی کا کہناھے کہ کتاب کافی کتب اربعہ میں برترین کتاب ھے اور اس کے مانند روایات اہلبیت پر مشتمل کوئی کتاب نہیں لکھی گئی ہے ۔ ( الذریعہ ج ۱۷ ص ۲۴۵)
خصوصی امتیازات
۱ . اس کتاب کے مؤلف نے امام حسن عسکری علیہ السلام کا زمانہ اور امام زمانہ علیہ السلام کے چار نائبین کا زمان درک کیا ہے ۔
۲ . مؤلفین اصول کے زمانہ سےنزدیک ہونے کے باعث مؤلف نے بھت کم واسطوں سے روایات نقل کی ہیں یھی وجہ ہے کہ کافی کی بہت سی روایات فقط تین واسطوں سے نقل ہوئی ہیں ۔ (دیکھئے کتاب ثلاثیات الکلینی و قرب الاسناد تالیف امین ترمس العاملی)
۳ . کتاب کے عناوین بڑے مختصراور واضح ہیں جو ہر باب کی روایات کا پتہ دیتے ہیں ۔
۴ . روایات بغیر کسی دخل و تصرف کے نقل ہوئی ہیں اور مصنف کے بیانات احادیث سے مخلوط نہیں ہیں ۔
۵ . مصنف کی کوشش رہی ھے کہ صحیح اور واضح احادیث کو باب کے آغاز میں اور اس کے بعد مبھم و مجمل احادیث کو ذکر کریں ۔ ( اصول کافی ج۱ ص۱۰ مقدمہ مترجم سید جواد مصطفوی )
۶ . حدیث کی پوری سند ذکر ہوئی ھے اسی لئے یہ کتاب تہذیب الاسلام ، الاستبصار اور من لا یحضرہ الفقیہ سے متفاوت ھے ۔
۷ . مؤلف نے انھیں راوایات کو ذکر کیا ھے جو باب کے عنوان سے سازگار ہیں اور متضاد احادیث کے نقل سے پرھیز کیا ھے ۔
۸ . روایات کو ان کے باب کے علاوہ جگہوں پر ذکر نہیں کیا ھے ۔
۹ . کتاب کے ابواب کو بڑے دقیق اور منطقی انداز سے تنظیم کیا ھے: عقل و جھل پھر علم اس کے بعد توحید کو شروع کرتے ہیں در حقیقت معرفت شناسی کے بعض مباحث کو پہلے مرحلے میں قرار دیا ہے پھر اس کے بعد توحید و امامت تک پہنچتے ہیں اس کے بعد اخلاقی روایات کو نقل کرکے فروع اور احکام تک پہنچتے ہیں اور آخر میں مختلف قسم کی روایات کو کشکول کے مانند جمع کیا ہے ۔
۱۰ . کافی کے عقیدتی ، اخلاقی اور فقھی مباحث کی جامعیت ایک اور قابل ذ کر خصوصیت ہے ۔
کافی پر کئے گئے اشکالات کی حقیقت
فن حدیث کے ماھر بزرگوں نے کتاب کافی کی بڑی تجلیل و تکریم کے پہلو میں اس پر کچھ اعتراضات بھی کئے ہیں:
الف : علامہ فیض کاشانی نے اپنی کتاب وافی کے مقدمہ میں درج ذیل اشکال کئے ہیں:
۱ . کافی میں بہت سے فقھی احکام نہیں بیان کئےگئے ہیں ۔
۲ . کافی میں بعض جگہ قول مخالف کی روایات کو ذکر نہیں کیا گیا ھے ۔
۳ . کافی میں مشکل اور مبھم الفاظ کی وضاحت نہیں کی گئی ھے ۔
۴ . کافی میں بعض عناوین کے ابواب اور روایات میں مد نظر ترتیب کا خیال نہیں رکھا گیا ہے اور کبھی تو غیر جگہ پر ذکر کر دیا گیا ھے یا ایک عنوان کو حذف کرکے دوسرا غیر ضروری عنوان ذکر کیا گیا ھے ۔
ب : بعض متضاد روایات یا مسلمات مذھب کے خلاف روایات موجود ہیں جو اس کتاب پر اشکال کے طور پر ذکر کی جاتی ہیں بعنوان مثال کافی میں کچھ ایسی روایات پائی جاتی ہیں جو تحریف قرآن پر دلالت کرتی ہیں اور شیعہ عقیدہ کے خلاف ہیں ۔
ج : بعض ایسے اسماء ہیں جیسے محمد ، احمد ، حسین ، محمد بن یحیی ، احمد بن محمد وغیرہ جو چند افراد میں مشترک ہیں مصنف نے اس سلسلہ میں کوئی توضیح نہیں دی ہے لھٰذا واضح نھیں ہو پاتا کہ اس سے کون مراد ہے البتہ بعض جگھوں پر قرائن کے ذریعہ مد نظر راوی یا مروی عنہ کی تشخیص دی جا سکتی ھے لیکن اس کے باوجود یہ راہ ہر جگہ راہ گشا نہیں ھے اور منظور نظر راوی مبھم رہ جاتا ھے ۔
د : اگلا اشکال یہ ھے کہ یہ طے ھے کہ شیخ کلینی نے تمام روایات کو اپنے استاد سے نہیں سنا ھے بلکہ بعض کو سنا ھے اور بعض کو اجازہ کی شکل میں ان سے دریافت کیا ھے حالانکہ دونوں صورتوں میں سند متصل اور معتبر ھے لیکن کلینی نے ان دونوں میں فرق قائم نہیں کیا ھے اور سب کو ایک ہی کلمہ " عن " کے ذریعہ ایک دوسرے سے متصل کر دیا ھے در حالیکہ بعض مؤلفین نے ان دونوں قسموں میں لفظ " حدثنا " اور لفظ " روینا " کے ذریعہ فرق قائم رکھا ھے ۔
ہ : بعض نے کلینی پر یہ اعتراض کیا ھے کہ کیوں کافی میں انھوں نے بعض راویوں کے قطعاً ضعیف ہونے کے باوجود ان سے روایت نقل کی ھے جیسے : وھب بن وھب (ابو البختری) احمد بن ھلال ، محمد بن ولید صیرفی ، عبد اللہ بن قاسم حارثی وغیرہ
ان تمام اشکالات و اعتراضات کے سلسلہ میں کتاب الکافی و الکلینی اور کتاب الکلینی و کتابہ الکافی میں بحث کی گئی ھے ہم ان اشکالات کے سلسلہ میں فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کرتے لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ اگر سارے اعتراضات صحیح مان بھی لئے جائیں تب بھی شیخ کلینی کے کام کی عظمت سے انکار نہیں کیا جاسکتا نیز ان کی کتاب پر اطمینان و اعتبار میں بھی کمی نہیں آئے گی البتہ کوئی کتاب سوائے اللہ کی طرف سے نازل کردہ کتاب قرآن کے محفوظ نہیں اور کوئی مؤلف سوائے ائمہ معصومین علیہم السلام کے کہ جن کو خدا نے عصمت سے نوازا ہے خطا و غلطی سے محفوظ نہیں ھے ۔
کیا روضۃ الکافی ، کافی کا جزء ھے ؟
بعض لوگ روضۃ الکافی کو کلینی کے آثارمیں نہیں شمار کرتے بلکہ اسے السرائر کے مؤلف جناب ابن ادریس کی طرف نسبت دیتے ہیں اس لئے اسے کافی کا حصہ تسلیم نہیں کرتے مقابل میں کافی لوگ اسے کافی کا جزء اور کلینی کی تالیف مانتے ہیں اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کو کتاب الکلینی و الکافی میں ص۴۰۸ سے ص ۴۱۵ تک اور کتاب الکلینی و کتابہ الکافی میں ص ۱۳۲ سے ص ۱۴۰ تک ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔
کافی پرانجام شدہ تحقیقات
کتاب کافی اپنی تالیف کے پہلے مرحلہ سے ہی علماء اور محدثین کی توجہ کا مرکز بنی رہی ھے اسی لئے اس کتاب پر بڑا کام ہوا ھے ۔
شیخ آقا بزرگ تھرانی نے اپنی کتاب الذریعہ میں اصول یا پوری کتاب کی ۲۷ شرح کا تعارف پیش کیا ہے ( الذریعۃ الیٰ تصانیف الشیعۃ ج۱۳ ص ۹۴ تا ص۱۰۰ ، ج۱۴ ص۲۶ تا ص ۲۲۸ ، المعجم المفھرس لالفاظ بحار الانوار ج۱ ص ۶۶ تا ص ۶۷) اسی طرح اس کتاب پر دس حاشیہ بھی شمار کیا ہے ( الذریعۃ الیٰ تصانیف الشیعۃ ج ۶ص ۱۸۱ ، المعجم المفھرس لالفاظ بحار الانوار ج۱ص ۶۶ )
اسی طرح بعض دیگر اھل قلم نے کتاب کافی کے سلسلہ میں بڑا کام ھونے کا تذکرہ کیا ہے کہ جن میں بھت سے آثار چھپ نہیں سکے ہیں یا بعض دسترس میں ھی نہیں ہیں ( ثامر ہاشم حبیب ، الشیخ الکلینی و کتابہ الکافی ص ۱۵۸ تا ص ۱۷۷ ) قابل ذکر بات یہ ہے کہ" ثقۃ الاسلام کلینی بین الاقوامی کانفرنس" نے کافی سے متعلق قابل ملاحظہ آثار جو ابھی تک منتشر نہیں ہوئے ہیں آمادہ یا نشر کرنے جارہی ھے ۔
یہاں پر کتاب کافی سے متعلق نشر شدہ آثار کی طرف چند حصوں میں اشارہ کیا جاتا ہے ۔
الف : شروح اور حواشی
۱ . " التعلیقۃ علیٰ کتاب الکافی " محممد باقر حسینی معروف بہ میر داماد (متوفی ۱۰۴۱ھ) تحقیق سید مھدی رجائی ( مطبعہ خیام قم ۱۴۰۳ھ )، ۲۲+ ۴۰۴ص
یہ تعلیقہ اصول کافی کی کتاب حجت تک ھے تعلیقہ کے ساتھ اصل روایات بھی چھپی ہیں اسی طرح شارح کی ایک اور کتاب بنام " الرواشح السماویہ " بھی ھے جس میں علم حدیث کے بعض قواعد اور کافی کے مقدمہ کی شرح ھے جو در حقیقت اس تعلیقہ کی جلد اول شمار کی جا سکتی ھے ۔
۲ . " شرح اصول الکافی " صدر الدین شیرازی ( متوفی ۱۰۵۰ھ )،( مکتبۃ محمودی تھران ۱۳۹۱ھ ش) ۴۹۲ص
یہ شرح اصول کافی کی کتاب الحجۃ کے آخر تک ھے جو محمد خواجوی کی تصحیح کی ساتھ دو جلد میں موسسۂ مطالعات وتحقیقات کے توسط سے چھپ چکی ھے اس شرح کو محمد خواجوی نے فارسی میں ترجمہ بھی کیا ھے اور اسی پبلشر کی طرف سے دو جلد میں طبع ھوئی ھے ۔
۳ . " الحاشیۃ علیٰ اصول الکافی " رفیع الدین محمد بن حیدر النائینی ، تحقیق : محمد حسین درایتی ( دار الحدیث قم ، ۱۳۸۳ھ ش) ۶۷۲ص وزیری سائز
۴ . " الحاشیۃ علیٰ اصول الکافی " سید بدر الدین بن احمد الحسینی العاملی ، تحقیق : علی فاضلی ( دار الحدیث قم ۱۳۸۳ھ ش) ۳۵۲ص وزیری سائز
۵ . " الدر المنظوم من کلام المعصوم " علی بن محمد بن حسن بن زین الدین عاملی ( ۱۱۰۳ یا ۱۱۰۴ھ) تحقیق : محمد حسین درایتی ( دار الحدیث قم ۱۳۸۵ ھ ش) ج۱، ۷۱۷ص وزیری سائز
۶ . " مرآۃ العقول " محمد باقر مجلسی ( متوفی ۱۱۱۰ھ ) دار الکتب العلمیۃ تھران ۱۴۰۴ھ ۱۳۶۳ھ ش ۲۶ج ۔
7 . "شرح الكافي، الاصول والروضة"، محمّد صالح مازندرانى، تعليق: ميرزا ابو الحسن شعرانى (تهران، المكتبة الاسلاميۃ ۱۳۴۲) ۱۲ج ۔
یہ شرح صرف اصول كافى اور روضۃ الکافی کو شامل ھے .
8 . "الشافي في شرح اصول الکافي"، ۳ج، عبد الحسین المظفر(مطبعة الغری، نجف اشرف ۱۳۸۹ھ ۱۹۶۹ع)۔
ب : تراجم
۱ . "اصول کافی"، ترجمه و شرح فارسی : سید جواد مصطفوی (تهران، دفتر نشر فرهنگ اهل بیت،۲ج)؛ یہ ترجمه، متن احادیث کے همراه ھے .
۲ . "الروضة من الكافي"، ترجمه و شرح فارسی : سيد هاشم رسولى محلاتى ( تهران، انتشارات علميه اسلاميه) ۲ج، ۲۹۷ + ۲۵۹ص. اس كتاب میں احاديث کا عربى متن بھی درج ھے .
۳ . "الكافي"، انگریزی ترجمه ، المؤسسة العالمية للخدمات الاسلامية.
اس ترجمہ کی اب تک ۱۳ جلدیں عربی متن کے ھمراہ نشر ھو چکی ہیں .
ج : تلخيصات
۱. "گزيدۀ كافى"، فارسی ترجمه و تحقيق: محمّد باقر بهبودى (تهران، شركت انتشارات علمى و فرهنگى،۱۳۹۶ش)۶جزء تین مجلد میں .(ج۱ معارف و آداب ج۲: طهارت ، صلات ج۳: زكات روزه ج۴: حج ، معيشت ج۵ : ازدواج ، مشروبات۶ج : زينت و گل و گلشن) .
۲ . "خلاصهٔ اصول كافى" فارسی ترجمه ، على اصغر خسروى شبسترى ( تهران ، كتاب فروشى اميرى،۱۳۵۱ش)، ۲۷۰ص.
3 . "الصحيح من الكافي"، ۳ ج، محمّد باقر بهبودى ( الدار الاسلامية، ۱۴۰۱ھ – ۱۹۸۱ع).
4 . "درخشان پرتوى از اصول كافى"، سيد محمّد حسينى همدانى (قم، مؤلف، ۱۴۰۶ق).
د : معاجم و راهنما
۱ . "المعجم المفهرس لالفاظ اصول الكافي"، الياس كلانترى (تهران، انتشارات كعبه).
۲ . "المعجم المفهرس لالفاظ الاصول من الكافي"، على رضا برازش (تهران، منظمة الاعلام الاسلامى، ۱۴۰۸ھ – ۱۹۸۸ع ، اول) ۲ ج، ۲۰۱۱ ص.
۳ . "الهادى الى الفاظ اصول الكافي"، سيد جواد مصطفوى (آستان قدس رضوى، مشهد،۱۴۰۶ھ)، ج ۱، ص ۴۱۳ ص، حرف شين تک .
۴ . "فهرس احاديث اصول الكافي"، مجمع البحوث الاسلامية، (آستان قدس رضوى، مشهد،۱۴۰۹ھ )
۵ . "فهرس احاديث الروضة من الكافي"، مجمع البحوث الاسلاميه (آستان قدس رضوى، مشهد،۱۴۰۸ھ ).
۶ . "فهرس احاديث الفروع من الكافي"، مجمع البحوث الاسلامية (آستان قدس رضوى، مشهد،۱۴۱۰ھ ).
۷ ۔ "فهرس احاديث الكافي"، بنياد پژوهشهاى اسلامى آستان قدس رضوى.
ه : اسناد و رجال كافى
1. "تجريد اسانيد الكافى و تنقيحها"، حاج ميرزا مهدى صادقى (قم،۱۴۰۹ھ ).
2. "الموسوعة الرجالية"، حسين طباطبايى بروجردى، ۷ ج، تصحيح و تكميل: ميرزا حسن النورى (مجمع البحوث الاسلامية، مشهد، ۱۴۱۳ھ /۱۹۹۲ع ).
اس مجموعه کی پہلی جلد بعنوان"ترتيب اسانيد كتاب الكافي"۵۶۷ صفحه میں اورچوتھی جلد بعنوان "رجال أسانيد او طبقات رجال الكافي"، ۴۶۸ صفحه میں کافی سے متعلق ھے .
و : كافى سے مربوط
۱ . "دفاع عن الكافي"، ثامر هاشم حبيب العميدى (مركز الغدير للدراسات الاسلامية، ۱۴۱۵ھ /۱۹۹۵ع ) ۲ ج، ۷۶۸ + ۷۸۹ ص.
۲ . "الشيخ الكليني البغدادي و كتابه الكافي"، ثامر هاشم حبيب العميدي (مكتب الاعلام الاسلامى، قم، ۱۴۱۴ھ /۱۳۷۲ھ ش )، ۴۹۵ ص. اس كتاب میں شیخ کلینی کی ذاتی اور علمى زندگی ، کافی کے سلسلہ میں ان کی علمی کاوشیں فروع کافی میں ان کی کیا روش رہی ھے بیان کیا گیا ھے .
۳ . "بین الكليني و خصومه، موقف محمد ابو زهرة من الکلینی"، عبدالرسول الغفار (دار المحجة البيضاء، بيروت، ۱۴۱۵ھ /۱۹۹۵ع )، ۹۶ ص .اس کتاب میں مصری رائٹر ابو زھرہ کے کافی پر اعتراضات کا جواب دیا گیا ھے .
۴ . "بحوث حول روايات الكافي"، امين ترمس العاملي (مؤسسة دارالهجرة، قم، ۱۴۱۵ھ )، ۲۰۰ص.
۵ . "دراسات في الكافي للكليني والصحيح للبخاري"، هاشم معروف الحسنى (۱۳۸۸/۱۹۶۸ع )، ۳۶۵ص.مولف نے اس کتاب میں ( کافی اور بخاری) کے درمیان مقائسہ کیا ھے اور کچہ عناوین کا انتخاب کر کے اپنا فیصلہ سنایا ھے ۔
۶ . "ثلاثيات الكليني و قرب الاسناد"، امين ترمس العاملي (مؤسسة دارالحديث الثقافية، قم ۱۴۱۷ھ / ۱۳۷۶ھ ش)، ۴۴۵ ص اس کتاب کے مقدمہ میں شیخ کلینی کے حالات زندگی اور ثلاثیات کی اصطلاحات کی توضیح کے بعد صرف تین واسطوں سے معصومین علیھم السلام تک متصل ہونے والی روایات کو انتخاب کیا ھے جن کی تعداد کل ۱۳۵ بنتی ھے .
۷ . "الكليني و الكافي"، الدكتور عبدالرسول الغفار (مؤسسة النشر الاسلامى ، قم، ۱۴۱۶ھ )، ۵۸۹ ص.
ماخوذ از:
"حیاة الشیخ محمد بن کلینی"، دکتر ثامر حبیب عمیدی
"فرهنگ کتب حدیثی شیعه"، سید محمود مدنی بجستانی
"آشنایی با متون حدیث و نهج البلاغه"، شیخ مهدی مهریزی
|